جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

عدالت نے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی خارج کردیا قاضی فائز کا 11 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کردیا فیصلے میں صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت عظمی نے ایف بی آر کوقاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی چھان بین کر کے 75روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی .
فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس قاضی فائز کی کونسل کے خلاف دائر درخواست نامناسب قرار دے کر خارج کر دی . عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ جاری ہونے کے 7 روز کے اندر ٹیکس کمشنر جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ اور بچوں کو سرکاری رہائش گاہ کے پتہ پر نوٹس جاری کریں گے.
جس میں اہل خانہ سے لندن کی تینوں جائیدادوں کے بارے میں علیحدہ علیحدہ وضاحت طلب کی جائے گی.
دوسری جانب قبل ازیں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ نے کی جمعہ کو سماعت کے آغاز پر وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے دستاویزات لفافے میں عدالت میں جمع کرا دیئے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پر کوئی آرڈر پاس کریں گے آپ درخواست گزار کے وکیل منیر ملک کو سنتے ہیں.
وکیل منیر ملک نے بھی لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کی گئی جس کے بعد منیر اے ملک نے کہا افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بد نیتی کے الزامات تھے.
سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا. مجھے جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنی پڑے گی سمجھ نہیں آرہی ہے حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا؟
فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے جسٹس فائز نے کبھی اہلیہ کی جائیداد کو خود سے منسوب نہیں کیا الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کی جائیدادپر جوابدہ ہوتا ہے.
فروغ نسیم نے کہا جسٹس فائز نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کردی لیکن میں کہوں گا کہ بدقسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی
بعد ازاں عدالت نے چار بج کر 25 منٹ پر مختصر فیصلہ سنا دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں